Spread the love

قبل اس کے کہ ميں تاريخ کے اوراق گردانی کروں سول کوڈکيا ہے؟ آئیے اس کو سمجهتے ہیں يونيفارم سول کوڈ جس کو يو سی سی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ يہ ايک عمومی قانون ہےجس کے ذريعہ ہندوستان کے مختلف مذاہب کے پرسنل لا جيسے شادی،طلاق،وراثت اور ان جيسے مسائل پرشہريوں کوبغيرمذہبی بهيد بهاو اورذات پات کے عمومی قانون فراہم کرنا ہے۔ ویسے ہمارے ملک ہندوستان میں فی الحال ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے پرسنل لا پرعمل کر رے ہيں اور ہندستان ميں يونيفارم سول کوڈ کی تاريخ ١٨٣۵ کی رپورٹ سے ہوتی ہے جب برطانوی حکومت نے ١٨٣۵ ميں جرائم، شواہد اور معاہدوں کے حوالے سےہندوستانی قانون کی ضابطہ بندی ميں يکسانيت کی ضرورت پر زور ديا تها، ليکن اس وقت ہندو مسلم کے ذاتی قوانين کو الگ رکها گياتھا۔ سن1949ء سے 1954ء تک پارليمنٹ ميں کئی بار رپورٹ پيش کی گئی تھی لیکن طويل بحث و مباحثہ کے بعد اس بل کو ملتوی کر ديا گياتھا۔
ايک طرف جہاں آئین ہند شہريوں کے حقوق کی بات کرتا ہےاور آرٹيکل ١٢ سے ٣۵ کوبنيادی حقوق قرار دے کر اس کی ترميم کو ممنوع قرار ديتا ہے وہيں دوسری طرف سول کوڈکے ذريعہ آرٹيکل ٢۵ اور ٢٩ کو کلعدم قرار دیا جارہا ہے، آ ئیے جانتے ہيں کہ آرٹيکل ٢۵ شہريوں کو کون کون سے حقوق فراہم کرتا ہے:-
آرٹيکل ٢۵ تمام افراد کو برابرشمار کرتا ہے اور اسے ضمير کی آزادی ، اعلانيہ طورپر اپنے عقيدے کے ظہور کی آزادی ،اپنے عقيدے پرعمل پيرا ہونے کی آزادی اور اپنے مذہب کی تبليغ کی آزادی فراہم کرتا ہے۔اس کی تفصيل نيچے ديے گئے نکات سے سمجها جا سکتا ہے۔
ضمير کی آزادی سے مراد ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وه اپنی چاہت کے مطابق اپنے رب سے تعلق قائم کرے ساتھ ہی ساتھ اس بات کی آزادی ہے کہ وه اپنی چاہت کے مطابق جسے چاہے دوست بنائے يا جس سے چاہے اپنا تعلق قائم کر یے
اعلانيہ طورپر اپنے عقيدے کی آزادی سے مراد ہر شخص کو مکلف بنایا گیا ہے کہ وه عقيدے کی توضيح اعلانيہ طور پر کرسکے۔
اپنے عقيدے پرعمل پيرا ہونے کی آزادی سے مراد ہے ہر شخص اپنے مذہب کے احکام کے مطابق عبادت کر سکتا ہے نيزدستور اور اس کے رسومات پر عمل کر سکتا ہے۔
تبليغ کی آزادی سے مراد ہرشخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وه اپنے مذہب کی تبليغ کرے اور دوسروں تک اپنے مذہب کی معلومات شير کریے یعنی اپنے مذہب کی باتوں کو دوسروں تک پہنچائے، ليکن کسی کو اس بات کا قطعا حق نہيں ہے کہ وه جبرا يا روپيہ پيسہ یاکسی اور چیزوں کی لالچ دے کر کسی کو اپنے مذہب سے منتقل کرائے، اسی طريقے سے آرٹيکل ٢٩ اپنے ہندوستانی شہريوں کو رسم الخط ،زبان اور ثقافت کا حق دے کر نہ صرف اس کی حفاضت کرتا ہے بلکہ اسے سنبھال کررکهنے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین بھی کرتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سول کوڈ ایک غیر ضروری بل ہے، جس کے ذریعہ ہندوستانی شہریوں کی نہ صرف مذہبی حقوق کو پس پست ڈالاجا رہا ہے بلکہ بابا صاحب کے آئین کی بنیادی حقوق کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہےاورعوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ یکسانیت اور عمومی حقوق کا بل ہے۔ سول کوڈ کے خلاف کئی دہائیوں سے احتجاج کئے جارہے ہیں، اس کے باوجود مودی حکومت اس کو 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کا مدعا بنا کر اپنی سیاسی روٹی سینکنے اور آنے والے پارلیمنٹ کے انتخابات میں پھر سے کامیابی کے لئے راہیں ہموار کر رہی ہے، جو کہ بی جے پی کی ایک پرانی روایت رہی ہے۔
اس لئے بالعموم ہم ہندوستانیوں کو متحد ہو کر اس بل کے خلاف احتجاج کرنا ہے اور بلا تفریق مذہب وملت کے اجتماعیت کا ثبوت دے کراپنے اپنے مذہب کے ساتھ آئین ہند کی مکمل حفاظت کرنی ہے اوربالخصوص مسلمانوں کو اس بل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہے اور دستور ہند کے دائرے میں پر زور اور زبردست احتجاج کرنا ہے، تاکہ ہم مسلمانان اپنے مذہب، اسلام کے بنیادی اصول پر عمل کر سکیں اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکیں۔ ویسے ہمارے اسلامی قوانین پر جس نے بھی چھیڑ خانی کی ہیں، انہیں نہ صرف منہ کی کھانی پڑی ہے بلکہ اس کے سبب ہمارا مذہب، مذہب اسلام اور مستحکم و مضبوط ہوا ہے، تاریخ کے اوراق اس کے شواہد ہیں، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:-
تم جتنا تراشوگے وہ اور سوا ہوگا
اسلام وہ پودا ہے کاٹو تو ہرا ہوگا


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *