Spread the love

سیمانچل کی بد حالی اور اس کا سد باب


خامۂ بکف:- منصوراحمدحقانی، نامۂ نگار روزنامہ اردو اخبارات


ہند ونیپال کے سرحدی علاقے جو سیمانچل کے نام سے موسوم ہے،یہ ہندوستان کے ان خطوں میں سے ایک ہے جو ہر اعتبار سے پسماندگی کی جیتی جاگتی تصویرہے، اس کی پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے، "سالانہ سیلاب" جس کے سبب نہ تو یہاں پرکوئی کارخانے اور فیکٹریاں قائم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی یہاں پر کوئی صنعت وحرفت لگائی جاسکتی ہیں،لے دے کے صرف اور صرف یہاں کے لوگوں کا دار ومدار اور انحصار زراعت پر ہے اور سال میں یہاں کے کسان ربیع فصل کی کھیتی تو کرلیتے ہیں،مگر خریف فصل کی کھیتی کا کوئی بھروسہ نہیں رہتا،کیوں کہ یہاں سالانہ سیلاب کتنی بار آئےگا اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا،مثلا اسی سال میں یہاں کے لوگوں نے دو دو مرتبہ دھان کی روپنی کا کام کیا،مگر تیسری دفعہ کے سیلاب نے یہاں کے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا،تیسری بار روپنی کے لئے نہ تو بیج بچا تھا اور نہ ہی کسانوں کے جیب میں پیسے تھے کہ پھر سے دھان روپنی کے لئے سوچ بھی سکتے تھے_کسانوں کی ساری پونجی اور سارا سرمایہ اسی سیلاب کی نذر ہوگیا،اب تو کھانے کے لالے پڑے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے لوگ ہر لحاظ سے بلندیوں کو چھو سکیں،اسی لئے اس علاقے کے لوگ روزی روٹی اور روزگار کے لئے دوسری ریاستوں کی جانب ہجرت کر جاتے ہیں_ اگر اس پر قابو پانا ہے اور یہاں پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں تو سالانہ آنے والے سیلاب پر قابو پانا ہوگا اور اس سے نمٹنے کیلئے کوئی مثبت قدم اٹھانا ہوگا

تبھی سیمانچل ترقیات کی جانب گامزن ہو گا اور اس خطے کی بدحالی دور ہوگی اس کے بغیر سیمانچل کی ترقی اور خوشحالی ناممکن ہے،حکومت چاہے جتنی بھی کوششیں کرلے،تباہ کن سیلاب ایک ہی جھٹکے میں تمام محنتوں کو زیرِ آب کر کے ساری خوشیاں چھین لے جائے گا،ماضی کی تاریخ گواہ ہے،اس لئے ندیوں کے کنارے آپ کتنے ہی مستحکم اور مضبوط پشتہ اور باندھ بنا ڈالیں پانی کی طاقت سب کو بہا لے جائےگی،جسے ہم اور آپ برسوں سے دیکھتے آرہے ہیں اس کا ایک ہی کارگر حل اور سولیوشن ہے،کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں جو رقم محکمۂ مصائب وآفات اور محکمۂ توانائی کے ذریعے سیلاب سے تحفظ کے لئے خرچ کرنے کے لىے دیتی ہیں اور جن پیسوں سے مضبوط پشتہ بنے یانہ بنے اور آفات زدگان مستحقین تک کماحقہ رقم پہنچے یا نہ پہنچے،البتہ لوکل بیچولیوں اور افسران کے مضبوط و خوبصورت عمارتیں اور چمچماتی مہنگی گاڑیاں سمیت دنیا کی ساری آسائشوں اور سہولتوں کے سامان ان کے گھروں میں آجاتی ہیں_ اسلئے سیمانچل کی فلاح و بہبودگی کیلئے ڈیم سیلاب کنٹرول کرنے میں بیحد مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ ڈیم کے ذخائر سے پینے کا پانی حاصل کرسکتے ہیں،اس کے آبی ذخائر سے نہریں اور ذیلی نہروں سے یہاں کے کسان ربیع فصلوں کی آبپاشی اور سینچائی بہت کم صرفہ میں کر سکتے ہیں اور اس سے کھانے پینے کی اشیاء تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پن بجلی گھر سے بجلی حاصل کرسکتے ہیں۔ ندی کا پانی ڈیم کے اندر جمع کرکے مصنوعی جھیلوں کی تشکیل کرسکتے ہیں، کاشت شدہ پانی گھروں اور صنعتوں میں آبپاشی یا شپنگ کے لئے بجلی کی تعمیر یا پانی کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ڈیم کا حوض مچھلی پکڑنے اور کھیلنے کے لئے بھی ایک اچھی جگہ ہے اور ان سے ہزاروں افراد کی روزی روٹی کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں ڈیم کی تعمیر اور ڈیزائن اس میں استعمال ہونے والے مادے پر منحصر کرتا ہے، اس میں کئی قسم کے ڈیم شامل ہو سکتے ہیں۔ مشینوں کے ذریعہ انجینئرز اس کے بارے میں اعلیٰ معلومات حاصل کرتے ہیں کہ ڈیم کے ذریعہ کتنا پانی اٹھایا جا سکتا ہے اور یہ کتنا بڑا اور طاقتور ہوسکتا ہے۔ پھر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس قسم کا ڈیم انتخاب کیا جائے۔ ڈیم کے مقام، مواد، درجہ حرارت، موسم کی صورتحال، مٹی اور چٹان کی قسم اور جسامت پر منحصر کرتا ہے۔الغرض سیمانچل کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ڈیم کا تاحال مرتب کرنا اشد ضرورت ہے،سیلاب ہر سال اس علاقے میں آتا ہے اس پر اربوں روپے صرف کئے جاتے ہیں اور اس کے نقصانات کا اگر باریک بینی کی عینک سے تخمینہ لگایا جائے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتاہے ریلیف آپریشن پر آنے والے اخراجات سے کم بجٹ میں ڈیم کی تعمیر ممکن ہے،اس کے علاوہ سیمانچل میں بے شمار مسائل درپیش ہیں جہاں صرف عوامی مسائل کے انبار نظر آتے ہیں بے روزگار نوجوانوں کی دکھ بھری داستاں تعلیمی انسٹیوٹ کے گرتے معیار محکمہ صحت کی مریضوں کے ساتھ بار بار لا پروائی رشوت خوری اور بد عنوانی جیسے ان گنت اسباب ہیں، جو موجودہ سرکاری سسٹم کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے سیمانچل خصوصاً ارریہ جس خستہ حالی اور بد حالی کا شکار ہےاور یہاں لوگ جن پریشانیوں سے زندگی کے ایام کاٹ رہےہیں، آخر کار اس کے ذمہ دار کون ہے ؟ اسے بہت باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے قبل اسکے کہ یہاں کی حالت زار پر روشنی ڈالی جائےایک رپورٹ پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔سیمانچل ریاستِ بہار کے 38 ضلعوں میں سے نوضلع ارریہ،پورنیہ،سوپول،سہرسہ،مدھوبنی،کٹیہار،کشن گنج،دربھنگہ اور مدھے پورہ سیمانچل کے علاقےکہلاتے ہیں ان میں سے ایک مشہورضلع ارریہ ہے، جس کی مجموعی آبادی 2011 کی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ، 28،11،569 افراد پر مشتمل ہے اور 47 میٹر سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے۔ اور ارریہ شہر اس ضلع کا انتظامی ہیڈکوارٹر ہے۔ ارریہ ضلع پورنیہ ڈیویژن کا ایک حصہ ہے۔ ضلع کا پھیلاؤ 2830 کلومیٹر ہے۔تقریباً 350 سال پہلے سر زمین ارریہ پورنیہ صوبہ کا ایک حصہ تھا اور یہ مغل حکمراں کی ماتحتی میں تھا، حاکم سیف خان(1731ء-1748ء) نے اپنی ماتحت علاقہ کا پھیلاؤ کیا اور سلطانپور یعنی موجودہ فاربس گنج کو اپنے صوبہ میں ملا لیا، اس وقت پورنیہ بنگال کے تین صوبوں میں سے ایک تھا، سیف خان نے بادشاہ جلال الدین اکبر کے نام پر پورنیہ اور سلطان پور کے بیچ ایک قلعہ بنوایا جسے جلال گڑھ کا نام دیا گیا جو آج بھی اسی نام سے مشہور ہے، سیف خان نے مسلم ہنر مندوں، تاجروں اور بہادروں کو اپنے صوبے میں بسایا، ان میں سے دو بہت اہم تھے، محمد رضا لگھڑا کشن گنج کے نواب اور میربرواہا (سلطان پور)کے میر صاحب نے برواہا کے آس پاس کے پندرہ گاؤں کو خریدلیا،پلاسی کی لڑائی 1757ء اور اس میں سراج الدولہ کی ہار نے پورے حکومتی ماحول کو بدل دیا۔1765ء کی الہ باد کی سندھی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال کےمالک بن گئے، اس کے فوراً بعد سخت حکومت کے لیے بنگال کے صوبوں کو ضلع کہا جانے لگا اور پورنیہ صوبہ بنگال کا ایک ضلع بنا، جس کی سرحد دارجلنگ سے گنگا ندی تک جاتی تھی۔بدلی ہوئی حالت میں سلطان پور ایک زمیندارانہ حصہ بن گیا، جس کے آدھے حصہ پر میر صاحب کا حق تھا اور آدھے پر رانی اندرا وتی کا جو اندر نارائن رائے کی اہلیہ تھیں، اس رانی کا میکہ رانی گنج کے پاس کے گاؤں ہنس کولہ تھا اور آج کا رانی گنج رانی اندرا وتی کے نام پر ہی جانا جاتا ہے۔راجا اندر نارائن کی زمینداری 1850ء میں مرشدآباد کے پرتاپ سنگھ کو بیچ دی گئی، پرتاب سنگھ کے لئے اتنے دور سے اس علاقہ کی نگرانی کرنا مشکل ہو رہا تھا اس لیے انہوں نے 1859ء میں سلطانپور کی زمینداری ایک انگریز مسٹر الیک زینڈر کو بیچ دی، دوسری طرف 1860ء میں میر صاحب کا انتقال ہو گیا ان کا کوئی وارث نہیں تھا، نتیجتاً رفتہ رفتہ ان کی بھی زمینداری الیک زینڈر فاربس کی زمینداری میں شامل ہو گئی، 1890ء میں الیک زینڈر فاربس اور اس کی بیوی ڈائینا کی ملیریا کے سبب موت ہو گئی، اس کے انتقال تک سلطان پور کی زمینداری پورنیہ ضلع کی سب سے بڑی زمینداری بن گئی تھی۔ آرتھر ہینری فاربس نےاپنے والد کےوفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی اسی کے وقت میں سلطان پور کا نام بدل کر فاربس گنج رکھا گیا یہ ظالم قسم کا انسان تھا اسی نے ڈگڈگی پٹوائی کہ سلطان پور کا کوئی بھی باشندہ اپنے رہنے کے لیے پکا مکان نہیں بنائے گا،اس خاندان کا آخری وارث مسٹر مکائی تھا، 1947ء کے بعد یہ خاندان انگلینڈ چلا گیا اور آزادی کے بعد سے سنہ 1990ء تک موجودہ ارریہ پورنیہ ضلع کا حصہ بنا رہا، 14 جنوری 1990ء کو یہ ایک نئے ضلع کے طور پر رونما ہوا۔نیپال کی قومی سر حد کے پاس بسے ارریہ ضلع میں آزادی کی جد و جہد کی تاریخ سنہری رہی ہے سن 1857ء کی پہلی جنگ آزادی سے لیکر 1942ء کی اگست کرانتی تک ارریہ کے بہادروں نے ہر موقع پر اپنی شہادت دی اور دیش کو غلامی کی زنجیر سے آزاد کرانے کیلئے بہترین کارکردگی کا مظاھرہ کیا_ بہر حال جنگ آزادی کے ان بہادروں نے جس جذبہ سے آزادی کا بیج بویا اس کا پھل بیسویں صدی میں بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ارریہ ابتدائی طور پر ایک دیہاتی ضلع ہے اس کی تقریباً 93 فیصد آبادی دیہاتی علاقوں میں رہتی ہے جن ميں سے ارریہ شہر اور فاربس گنج شہری حیثیت کے حامل ہیں اتنے قدیم اور ان تمام خصوصیات کے حامل ضلع کی اگر میں ترقی کی بات کروں تو سب کا ساتھ سب کا وکاس شاید یہاں سے روٹھ کر کوسوں دور جا بسا ہے سیاسی نمائندے بے چارے اتنے بڑے مفاد پرست ہیں کہ وہ اپنے ہی سیاسی مسائل کے حل میں ایسے مصروف نظر آتے ہیں کہ انہیں عوام کی خبر گیری کے لئے وقت ہی نہیں ملتا ،ہاں یہ بات ضرور ہے کہ الیکشن کے وقت وہ ہر حال میں ارریہ کے باشندگان کے مسیحا بن جاتے ہیں،ایک سروے کے مطابق ارریہ ہندوستان کا سب سے غربت زدہ ضلعوں کی فہرست میں اول نمبر پر ہے جو سب سے زیادہ پسماندگی اور زبوں حالی کا شکار ہے غریبی اور بدحالی ایسی کہ ۹۵ فیصد لوگ مٹی کے بنے گھروں میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں آزادی کے ستر سال کے بعد بھی اس ضلع کا اتنا مفلوک الحال نظر آنا سیاسی قائدین کی عدم توجہی کی منہ بولتی تصویر ہے ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں گاؤں اور دیہاتوں سے ضلع ہیڈ کواٹر آنے کے لئے اگر راستے میں ندی پڑجائے تو بانس سے بنے چچری پل اور کشتی واحد سہارا ہے جو اپنے آپ میں ایسی تصویر ہے جو انسانی تخیلات کے ہر زاویے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے_ ارریہ کی غربت زدہ ایک تصویر وہ بھی تھی جسکو ارریہ ضلع میں ہی پیدا ہونے والے مشہور ہندی مصنف اور ناول نگار فنیشور ناتھ رینو نے “میلا آنچل میں دکھانے کی کوشش کی ہے اور اسی ناول پر مبنی بالی ووڈ کی بہت ہی مشہور فلم “تیسری قسم” 1966 میں ریلیز ہوکر منظر عام پر آئی تھی اس فلم میں ارریہ کے کئی مقامات کی عکاسی بھی کی گئی تھی اور اسوقت کی غربت زدگی اور بدحالی کو بھی کیمرے نے بڑے شاندار طریقے سے قید کیا ہے فنیشور ناتھ رینو جی جو ہندی ناول نگاری میں ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جس سے زمانہ در زمانہ لوگ جڑتے چلے گئے اور سماج کے ہر طبقے میں یکساں مقبول تھے انہیں لگتا تھا کہ اس وقت کے موجودہ سرکار اور سسٹم کو آئینہ دکھایا جائے ملک آزاد ہوئے تقریباً 70 سال ہوچکے ہیں, ہم سب کو ایسا کیوں لگتا ہیکہ آج بھی ارریہ کی تصویر ہندوستان کے نقشے میں سب سے زیادہ غربت زدہ اور بدنماں نظر آتی ہے ارریہ کے دیہاتی علاقوں میں سڑکیں تو بن گئیں لیکن دوبارہ اسکی اصلاح نہیں ہوسکیں اس بیچ جھوٹے سیاسی وعدے کرکے کئی ارباب اقتدار اپنی کرسی بچانے میں بھی دوبارہ کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن بے چاری عوام اپنی بد نصیبی کا رونا روتے ہیں آزادی کے 70 سال بعد بھی اپنی بنیادی سہولتوں سے ارریہ محروم کیوں ہے بچوں میں تعلیمی شرح سب سے کم ہے ارریہ سے منتخب ہوئے کسی نے بھی کوئی ایسی تعلیمی مراکز کا قیام نہیں کیا جس سے یہاں کے بچوں کا تعلیمی مستقبل سنوارا جاسکے ہر ایک نے صرف اس علاقے کو جھوٹ اور فریب کا آئینہ دکھایا ہے سرکاری سطح پر اس ضلع میں شرح ناخواندگی میں سب سے پہلے پائیدان پر ہے_ سرکاری اسکولوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ جسے بیان نہیں کیا جاسکتا شوشل میڈیا کے ذریعہ روز ارریہ کے الگ الگ گاؤں سے سرکاری اسکولوں کی جو تصویر نکل کر آرہی ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں بچوں کو کس معیار کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے اسکول کی عمارت اور در و دیوار نئی ہونے کے باوجود عدم توجہی کی وجہ سے اتنی خستہ اور پرانی لگتی ہے جیسے برسوں سے وہاں کسی کا گزر نہ ہوا ہو جنگل وبیابان میں قائم یہ سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں سےکوسوں دور ہیں اگر دس عملہ کا اسکول میں تقرری ہے تو اسکی جگہ صرف ایک یا دو اسکول ٹیچر کی حاضری ہے مفلوک الحال اور بے یارو مدد گار زمینی فرش پر بیٹھے مڈے میل کے نام پر بچوں کے پلیٹ میں بس تھوڑی سی کھِچڑی غریب بے حال اور ناتواں والدین کے بچوں کے ساتھ ایسا بھدا مذاق ہے جو کسی بھی آنکھوں کو اشک بار کرنے لئے کافی ہے سب پڑھیں ، سب بڑھیں جیسی سرکاری نعروں کو منہ چڑھا رہا ہے، یہ اس حقیقت کو واضح کردینے والی تصویر ہے جس سے اصحاب اقتدار کی خامیاں اور ہماری سیاسی رہنماؤں کی نا کامیابیاں پوری طرح عوام کے سامنے واضح ہو چکی ہے جو تھوڑی بہت تعلیمی رمق نظر آتی ہے وہ نجی اسکولوں پر ٹکی ہوئی ہے ارریہ میں نجی اسکولوں کا جال بچھا ہواہے جو شہر سے لیکر گاؤں تک بہت ہی منظم طریقے سے اپنے فرائض کو انجام دے رہے ہیں چوک چوراہے اور گاؤں کی تنگ گلیوں میں لگی نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں کے بڑے بڑے اشتہارات دیکھنے کو ملیں گے۔ جو غریب سب سے زیادہ ووٹ دیکر اپنے نمائندوں کو کامیاب کرتا ہے آج انکے بچے غربت کی وجہ سے ان نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی سرکاری اسکولوں میں کیوں کہ وہاں تعلیم پانا تو دور بچوں کو بیٹھنے تک کا صحیح انتظام نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی سیاسی نمائندے سرکاری اسکولوں کی تعلیمی اصلاح اور اسکی بہترین نظم و نسق کے لئے کوئی اقدام کرنے کی کوشش کرتے ہیں آخر یہ معصوم بچے جائے تو کہاں جائے؟تعلیمی میدان کے ارباب نقد و نظر کو بہت زیادہ غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے جتنی جلدی ہوسکے ہمیں ملکر سماج میں بیداری مہم چلانا ہوگا تاکہ عوام الناس کو بیدار کیا جا سکے اور آنے والے وقت میں بہتر تیاری کے ساتھ ارباب حکومت تک ہم اپنی آواز کو پہونچانے میں کامیاب ہو سکیں تاکہ اس معاشرے کو وہ انصاف مل سکے جسکے وہ حقدار ہیں اگر ارریہ ضلع میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کی بات کریں تو بہت ہی افسوس ناک پہلو نکل کر سامنے آتا ہے اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود پورے ضلع میں صرف دس پرائمری ہیلتھ سینٹر کے ساتھ ایک صدر اسپتال ہے مذکورہ ہیلتھ سینٹروں میں بھی ڈاکٹروں کی حاضری نا کے برابر ہے۔ ذرا سوچئے جس ضلع کی آبادی اٹھائیس لاکھ سے بھی زائد ہوں وہاں دس ہیلتھ سینٹر پبلک کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو کیا ہے ؟ اسکے علاوہ حکومت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کے لئے پنچایتی سطح پر ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کی، تاکہ لوگوں کو علاج کی سہولت مل سکے لیکن محکمہ کی لاپرواہی اور سیاسی نمائندوں کی کاہلی اور تساہلی کی وجہ سے دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد اس سے مستفید نہیں ہوپاتے ہیں، کیونکہ ابھی تک وہاں نہ کوئی ڈاکٹر پہونچا اور نہ ہی دوائیاں اور آج ان ہیلتھ سینٹروں میں مویشی اور جلاون رکھنے کا کام لیا جارہا ہے اتنا ہی نہیں آج بڑی تعداد میں ہیلتھ سینٹر کھنڈر میں تبدیل ہو تے جارہے ہیں اسکی ترویج و تنسیق کے لئے کوئی آگے آنے کو تیار نہیں ہے اس لئےآج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سیاسی رہنماؤں سے سوال کریں اور ان سے پوچھیں کہ کہا ں ہے اچھی سڑکیں بہترین اسکول اور اسپتال؟ جس بات کا ہم سے ووٹ لیتے وقت وعدہ کیا گیا تھا ہم سیاسی رہنماؤں کے اندھے بھکت اور مرید بننے کے بجائے الگ الگ مدعوں پر ان سے سوال کریں ورنہ وہ دن دور نہیں اسی اندھ بھکتی کیوجہ سے ہم غلام بنا لئے جائیں ،آخر اس طرح کے بد تر حالات کب تک سدھریں گے مجھے لگتا ہے اب تبدیلی کی ضرورت ہے ضلع کے نوجوان طبقہ اب ذلت بھری زندگی سے تنگ آچکا ہے اب وہ ہر حال میں موجودہ سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں اور کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں کچھ خواب ہیں انکی آنکھوں میں اسکو پورا کرنا چاہتے ہیں آنے والی نسلوں کو ترقی کے سوغات دینا چاہتے ہیں اور عروج و بلندی کی ہر اس ہدف کو چھونا چاہتے ہیں جسکی جمہوریت میں انہیں بھی حقوق حاصل ہیں۔


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *