Spread the love

ہر سال ۱۵ اگست کے دن ملک ہند کے ہر خطے سے تعلق رکھنے والی عوام شاداں و فرحان رہتے ہیں۔دن بھر “شادم از زندگی خویش کے کارے کر دم”اور اس جیسے نہ معلوم کتنے ہی نعرے لگاتے او ر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئےاپنےآپ کو  ایک خوف وخطر اور اندیشہ سے پاک صاف شہری تصور کرتے ہیں ، جھنڈے فہراتے ،قومی ترانہ گاتے ،قسم قسم کے  پکوان تیار کرتےاورلمحات حیات سے لطف اندوز ہو کر زندگی گزر بسر کرتے ہیں۔ الگ الگ مذاہب کے لوگ اپنے لاء پر عمل کرتے اور ملک  و ملت کی امن و امان اور ترقی کے لئے کو شاں رہتے ہیں۔ لیکن جب ہم ۱۹۴۷ سے پہلے کی حالت پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہندوستانیوں کی زندگی غلامانہ نظر آتا ہے ۔ اختصارا برطانوی حکو مت( ۱۷۵۷ سے ۱۹۴۷ ) کی زمانہ خلافت پر عمیق مطالعہ کرنے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ان کے مقاصد تجارت کے بہانےہندوستانیہوں پر حکمرانی کرنا اور ثروت ہند کو لوٹ کر لے جانا تھا۔ آخرکار ۱۸۵۷ کے بعد آزادی ہند کے لیےکچھ ایسے با ہمت اشخاص اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے آزادی کےخاطر آنے والی ہر چٹان جیسی مصیبتوں کو جھیلنا اپنے لیے باعث اجرسمجھا جسے دنیا آج فریڈ م فائٹر کے نام سے جانتی اور یاد کرتی ہے۔آ یئے کچھ ایسے نامور فرہڈم فائٹر کی حیات جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کے بارے ہر محب وطن شہری پڑھنا اور سننا پسند کرتے ہے۔ اس کڑی میں سب سے پہلا نام مہاتما گاندھی کا آتا ہے جنہوں نے زمانہ برطانوی حکومت میں   ۱۹۱۷ کے چمپارن ستیاگرہ (Champaran Satyagraha)اور ۱۹۱۸ میں کھیدا ستیاگرہ(Kheda Satyagraha) کی قیادت کی ساتھ ہی ساتھ ۱۹۳۰ کے سول نافرمانی کی تحریک(Civil disobedience movement) اور ۱۹۴۲  کے قوٹ انڈیا موبھمینٹ (جسے بھارت چھوڑو اندولن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ) کی شروعات کی تھی۔  ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر (Dr. B.R. Ambedkar)جسے(Father of the constitution) آ ئیین کا باپ کہا جاتا ہے۔یہی وہ شخص ہیں جن کو سب سے پہلے لا ء منسٹر کی کرسی پر بیٹھےکا موقع فراہم ہوا ۔جواہر لال نہرو (۱۸۸۹۔۱۹۶۴) جیسے تدبر و تفکر کے مالک وزیر اعظم ہم ہندوسانیوں کو ملے جنہوں نے آزادی ہند کے لیے ہر ممکن کوشش کیا ۔ڈاکٹر راجندر پراساد (۱۸۸۴۔۱۹۶۳) جو ۱۹۵۰ سے ۱۹۶۳ تک ہندوستان کا  پہلا صدر رہے اور بے مثال خدمات انجام دیے ۔ یہ حوصلہ مند قائد ہندوسانیوں خصوصا بہاریوں کے لیے باعث فخر ہے جنہوں نے بہاریوں کی قیادت میں کوئی قصر نہیں چھوڑی۔  سردار ولب بھائی پٹیل (۱۸۷۵۔۱۹۵۰)  اسی فہرست کا ایک نمایا جز ہے جنہوں نے ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۰ تک نائب صدر اور وزیر خارجہ کے طور پر خدمت انجام دیا۔ بخت خان(۱۷۹۷۔۱۸۵۹)  باہمت جنگجو،محب وطن شہری اور  ۱۸۵۷ میں ہونے والے جنگ آزادی کے ایک اہم کردار ہیں جو  انگریزوں سے لڑنے کے لیے اپنے فوج سمیت میدان میں حاضر ہویے تھے۔ علاوہ ازیں کچھ ایسے محب وطن جن کے کارنامے پڑھ ،سن کر آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ شیخ محمد بور کار ، شیخ محمد بولی ، شیخ محمد کاٹا ۱۸۹۴ میں پولیس فائرنگ میں مارے گئے۔ حاجی مبارک علی خان مظفر پور ، بہار  کو جیل میں بند رکھا گیا آ خر کار ۱۸۷۱ میں سزا کاٹتے ہوئے اپنے رب سے جا ملے ، رحمت علی فقیر لدھیانا ، پنجاب کو ۱۹۱۴  میں پھانسی دے دی گئی، اشفاق ا للہ خاں ولد شفیق اللہ، اتر پرادیش نے ۱۹۲۷  مین پھانسی کے تختے پر کھڑے ہو کر کہا  ” مین مادر وطن کی آزادی کے لیے پھانسی کے تختے پر چڑھایا جا رہا ہوں، تمہیں فخر کرنا چاہیے کہ تمہارا ایک عزیز ایک مقدس فرض کو پورا کرنے کے سلسلے میں اپنی جان دے رہا ہے مجہے بحثیت مسلما ن ہونے کے اس راستہ میں شہادت نصیب ہو رہی ہے یہ تو خوشی کی بات ہے” ۔۱۹۱۹ کے روولٹ قانون کی وجہ سے سیکڑوں ہندوستانیون کو پولیس فائرنگ سے مار دیا گیا تھا جن میں عبدالغنی، محمد دین ولد خدا بخش ، شیر باز ،حشمت خان و غیرہ سر فہرست ہیں۔ اسی طرح جلیان والا باغ ۱۳ اپریل ۱۹۹۹  کو فائرنگ کے ذریعہ سینکڑوں جانوں کو بے دردی سے مار گرا یا گیا جن کی گواہی تاریخ کے صفحات دیتے ہیں

                          یوم جمہوریہ اور معروف فریڈم فائٹر کا مختصر تعارف
 

 


Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *